لاہور (ویب ڈیسک): حکومت پنجاب نے اپنے مہتواکانکشی “بائیکرز سبسڈی منصوبے” کے لیے باضابطہ طور پر محکمہ خزانہ سے 24 ارب روپے کی خطیر رقم طلب کر لی ہے۔ یہ رقم صوبے بھر میں موٹر سائیکل سواروں کو پٹرول کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختص کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ پنجاب نے مطلوبہ رقم کی منظوری سے متعلق سمری وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے حتمی منظوری ملتے ہی محکمہ خزانہ فوری طور پر 24 ارب روپے کے فنڈز جاری کر دے گا۔
منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے ایک کروڑ 25 لاکھ بائیکرز کو ماہانہ 2000 روپے کی سبسڈی فراہم کرنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ ایکسائز محکمہ کے ذرائع کے مطابق بائیکرز کو فی لیٹر پٹرول پر 100 روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
رجسٹریشن کے اعداد و شمار
ایکسائز حکام کے مطابق اس اسکیم میں بائیکرز کی جانب سے غیر معمولی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔ اب تک 80 لاکھ سے زائد بائیکرز اس پروگرام کے تحت اپنی رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1980ء سے اب تک صوبہ پنجاب میں تقریباً 5 کروڑ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہو چکی ہیں۔
لاہور میں موجود اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں بائیکرز کی رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے اور ڈیٹا کی تصدیق کے بعد سبسڈی کی فراہمی کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام آدمی پر پڑنے والے معاشی بوجھ کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔









