ایران کا دوٹوک مؤقف: میزائل پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں، امریکا سے اختلافات برقرار

سینئر ایرانی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں، خصوصاً میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم اہم معاملات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔

برطانوی خبر ایجنسی کے حوالے سے ایرانی و اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے نزدیک اس کی دفاعی طاقت، خاص طور پر میزائل پروگرام، ناقابلِ گفت و شنید ہے اور اسے کسی صورت بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق امریکی اقدامات، خصوصاً آبنائے ہرمز میں مبینہ ناکہ بندی، امن مذاکرات کو متاثر کر رہی ہے اور کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج Israel Defense Forces (IDF) نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے دوران ایران کے ہتھیار سازی کے اہم ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا جو اسرائیل کے خلاف ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو رہے تھے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے اور فی الحال وہ نئے میزائل تیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ تاہم اسرائیلی فوجی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق ایران جلد اپنی کچھ پیداواری صلاحیتیں بحال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں