اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کے واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے بعد نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان برداشت اور باہمی احترام کی اقدار کو اہمیت دیتا ہے، اور ملک میں تمام مذاہب کو آزادی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے کیتھولک مذہبی علامت کو نقصان پہنچانا افسوسناک ہے اور وہ اس عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
وزیرِاعظم کے مطابق فوجی حکام نے واقعے کی فوجداری تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ذمہ دار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج Israel Defense Forces (IDF) کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات ناردرن کمانڈ کے تحت جاری ہیں اور اسے ضابطۂ کار کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے۔









