واشنگٹن ( آواز رپورٹ) صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت ترین امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے جہاں ایک تارکین وطن اور امریکی کمپنیاں پریشان ہیں دوسری طرف عدالتیں گاہے بگاہے ایسے اقدامات کے خلاف فیصلے بھی دیتی آرہی ہیں۔ اب تک صدر ٹرمپ کے کئی احکامات کو عدالتیں رد یا ان پر سٹے آرڈرزجاری کرچکی ہیں۔ ان اقدامات میں سے ایک بڑا حکم امریکی ٹیک کمہنیوں کے لئے سب سے اہم ترین H1-B ویزے کے لئے ایک لاکھ ڈالر فیس کے حوالے سے تھا۔ چند ماہ قبل امریکی صدر نے ایسے درخواست گزاروں کو ایک لاکھ ڈالر فیس کا پابند بنایا تھا۔ جس سے امریکی کمپنیوں اور اداروں کے لئے ہنرمند غیر ملکی ملازمین کا حصول مشکل ہوتا جارہا ہے۔مگر اب بوسٹن میں ایک وفاقی جج نے صدر ٹرمپ کے حکم نامے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس سے رجوع کئے بغیر یہ فیصلہ کیا ہے جو قطعی غیر قانونی اور صدر کے اختیار سے باہر ہے۔20 ڈیموکریٹک ریاستوں کے اٹارنی جنرلوں نے گزشتہ سال ستمبر میں جاری کردہ صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈرکے خلاف لاء سوٹ فائل کیا تھا۔ بوسٹن کی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج لیو سوروکِن نے ایک لاکھ ڈالر ویزا فیس کو غیرقانونی قرار دیا ہے۔ایچ ون بی ویزہ کٹیگری کے تحت ہر سال 65 ہزار ہنرمند افراد کو ویزے جاری کئے جاتے ہیں جبکہ 20 ہزار اضافی ویزے ایڈوانس ڈگری کے حامل افراد کے لئے مختص ہوتے ہیں۔عام طور سے 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالرز فیس وصول کئے جاتے ہیں۔ مگر صدر ٹرمپ نے ستمبر 2025 میں اچانک ایک لاکھ ڈالر فیس کا اعلان کرکے H1-B کے درخواست دہندگان اور امریکی اداروں خصوصا ہائی ٹیک کمپنیوں کے لئے مشکلات پیدا کردی تھیں۔واضح رہے جج سوروکِن سابق صدر باراک اوبامہ کے نامزد کردہ جج ہیں۔









