نیتن یاہو کا ستمبر میں نیویارک جانے کا اعلان، آئی سی سی وارنٹ پر گرفتاری کے مطالبے کو مسترد

یروشلم / نیویارک: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ کریں گے، حالانکہ ان کے خلاف عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے جاری کردہ وارنٹِ گرفتاری پر عمل درآمد کا مطالبہ سامنے آ چکا ہے۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کی جانب سے ان کی گرفتاری کے مطالبے کے باوجود وہ نیویارک ضرور جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وہاں جا کر اپنے مؤقف کی وضاحت کریں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ظہران ممدانی پر الزام عائد کیا کہ وہ نیویارک کے شہریوں میں تقسیم پیدا کر رہے ہیں اور یہودی برادری کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی نفرت اور غلط معلومات کا پھیلاؤ قابلِ تشویش ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ظہران ممدانی نے نیتن یاہو کو جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر وہ امریکا آئیں تو ان کے خلاف عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹِ گرفتاری پر عمل درآمد کیا جائے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ نیتن یاہو کے امریکا کے ممکنہ دورے کے دوران انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت بنیامین نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں