ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ سوارا بھاسکر نے انکشاف کیا ہے کہ رام جنم بھومی کیس میں بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر انہیں شدید افسوس ہوا تھا اور انہوں نے اپنے جاننے والے متعدد مسلمانوں سے رابطہ کرکے معذرت کی تھی۔
38 سالہ اداکارہ سماجی اور سیاسی معاملات پر اپنے بے باک خیالات کے باعث اکثر خبروں میں رہتی ہیں۔ حالیہ انٹرویو میں انہوں نے ایودھیا کے رام جنم بھومی کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب فیصلہ سامنے آیا تو وہ بہت پریشان ہو گئی تھیں۔
سوارا بھاسکر کے مطابق انہیں یہ فیصلہ ناانصافی محسوس ہوا، جس کے بعد انہوں نے اپنی فون بک میں موجود مسلمان دوستوں اور جاننے والوں کو پیغامات بھیجے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شاہ رخ خان، عامر خان، سلمان خان سمیت ان تمام مسلمانوں سے رابطہ کرنا چاہتی تھیں جنہیں وہ جانتی تھیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے ان افراد کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ایک ہندو کی حیثیت سے انہیں اس معاملے پر افسوس ہے، وہ شرمندہ ہیں اور اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتیں۔
سوارا بھاسکر کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بعض صارفین نے ان پر ہندوؤں کے جذبات مجروح کرنے اور عدالتی فیصلے کی توہین کرنے کے الزامات عائد کیے۔
واضح رہے کہ نومبر 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے ایودھیا اراضی تنازع پر متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے متنازع 2.77 ایکڑ اراضی پر رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کی تھی، جبکہ حکومت کو مسجد کی تعمیر کے لیے ایودھیا میں متبادل طور پر 5 ایکڑ اراضی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔









