بنگلہ دیش کے سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے ساتھ کسی ممکنہ اقتصادی یا دفاعی تعاون کے ڈھانچے میں شامل ہونے کے مؤقف پر بھارتی میڈیا میں بحث جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کے خارجہ امور کے مشیر ہمایوں کبیر نے کہا ہے کہ ڈھاکہ اپنی قومی ترجیحات اور عالمی معیشت و تجارت میں بدلتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے ساتھ کسی اقتصادی یا دفاعی تعاون کے فریم ورک میں شمولیت کے امکان کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
بھارتی میڈیا اس بیان کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان 7 اگست 2026 کو طے پانے والے مکّہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ سے جوڑ رہا ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون بڑھانے اور مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کرنے کی شق بھی شامل ہے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے اس فریم ورک میں ممکنہ شمولیت کے اشارے کو بھارتی میڈیا خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی اور دفاعی صف بندی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں بھی مختلف معاملات پر کشیدگی موجود ہے۔
ہمایوں کبیر نے مزید بتایا کہ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کی دعوت پر بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کا ریاض کا دورہ موسمِ گرما کے بعد حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی جانب سے ابھی مکّہ دفاعی معاہدے میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان نہیں کیا گیا، بلکہ اس امکان کے حوالے سے مثبت مؤقف سامنے آیا ہے۔









