بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے پھیپھڑوں کی بیماری سے متعلق ایک اہم راز قیامِ پاکستان کے تقریباً 79 برس بعد ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔
جون 1946 میں قائداعظم کے پھیپھڑوں کے ایکسرے میں تپِ دق (ٹی بی) کی سنگین علامات سامنے آئی تھیں۔ ایکسرے میں پھیپھڑوں پر سفید دھبوں اور دیگر علامات سے اندازہ ہوا کہ بیماری کافی حد تک بڑھ چکی تھی۔
کتاب ’فریڈم ایٹ مڈنائٹ‘ کے مطابق بمبئی کے فزیشن ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل اور ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر جل ڈیبو نے ایکسرے کا معائنہ کرنے کے بعد اندازہ لگایا تھا کہ قائداعظم کی صحت انتہائی تشویش ناک ہے اور وہ شاید ایک یا دو برس سے زیادہ زندہ نہ رہ سکیں۔
دونوں ڈاکٹروں نے قائداعظم کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کی بیماری کی سنگینی کو راز میں رکھا۔ اس وقت یہ معلومات سامنے آ جاتیں تو برصغیر کی سیاسی صورتحال اور پاکستان کے قیام کی جدوجہد پر ممکنہ طور پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔
پاکستان کے قیام کے 79 برس بعد ان دونوں پارسی ڈاکٹروں کو ان کی خاموش اور غیر معمولی خدمت کے اعتراف میں اعلیٰ سول اعزاز نشانِ امتیاز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
وزیرِ منصوبہ بندی اور ایوارڈز کمیٹی کے چیئرمین احسن اقبال نے سوشل میڈیا پر اس واقعے کو بیسویں صدی کے اہم ترین تاریخی رازوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر قائداعظم کی بیماری کا علم ان کے سیاسی مخالفین اور برطانوی حکام کو ہو جاتا تو ممکن ہے کہ تقسیمِ ہند اور پاکستان کے قیام کا عمل مختلف رخ اختیار کر لیتا۔









