لاہور کے چیئرنگ کراس مال روڈ پر جماعتِ اسلامی کا دھرنا نویں روز میں داخل ہوگیا، جہاں امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور عوامی مسائل پر شدید تنقید کی۔
دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ ملک کے معاشی حالات خراب ہونے کے باوجود مریم نواز نے 11 ارب روپے کا جہاز خرید لیا، جبکہ عوام مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پیٹرول کی قیمتوں میں کمپنیوں کو غیر ضروری مارجن دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب بیوروکریسی کی مراعات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا کہ جماعتِ اسلامی 13 ربیع الاول کو ملک گیر ہڑتال کی کال دے گی، جبکہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں بھی ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی کے دھرنوں میں خواتین سمیت عوام کی شرکت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کا مقصد کسی کی انا کی تسکین نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانا ہے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو امتِ مسلمہ کے مفاد میں استعمال کرنے پر بھی زور دیا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے گندم برآمد کرنے کی اجازت دیے جانے کے بعد گندم کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، جس کا بوجھ بھی عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔









