پارک ویو سٹی میں نیو ایئر ایونٹ بدنظمی کی نذر، ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی ویڈیوز وائرل

اسلام آباد کی معروف ہاؤسنگ سوسائٹی پارک ویو سٹی میں نئے سال کے استقبال کے لیے منعقد کی گئی تقریب خوشی کے بجائے شدید بدنظمی، ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ میں بدل گئی، جس کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پارک ویو سٹی میں آتش بازی اور کنسرٹ کا اہتمام کیا گیا تھا، تاہم رات بارہ بجتے ہی حالات قابو سے باہر ہو گئے۔ وائرل ویڈیوز میں نوجوانوں کو جیکٹس، چادریں اور دیگر اشیا فضا میں اچھالتے، باڑ پھلانگتے اور سوسائٹی میں نصب بینچوں، جنگلوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

کچھ ویڈیوز میں نوجوانوں کو لوہے کے جنگلے اکھاڑ کر قریبی پانی میں پھینکتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جبکہ ڈانسنگ فاؤنٹینز کے اطراف توڑ پھوڑ کے مناظر نے انتظامیہ کی تیاریوں پر سوالات اٹھا دیے۔

ذرائع کے مطابق یہ تقریب فیملی ایونٹ کے طور پر منعقد کی گئی تھی، مگر داخلے اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر انتظامات نظر نہیں آئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مختلف اقسام کے ٹکٹس فروخت کیے گئے تھے، جن میں وی آئی پی ٹکٹس بھی شامل تھے، لیکن متعدد افراد کو ایسی جگہوں پر روک دیا گیا جہاں سے نہ اسٹیج دکھائی دیتا تھا اور نہ ہی کنسرٹ۔ مبینہ طور پر ٹکٹ کی رقم واپس مانگنے پر راستے بند کیے گئے جس کے بعد عوام میں غصہ پھیل گیا۔

کچھ ویڈیوز میں سیکیورٹی اہلکاروں کو دور کھڑا دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ بعض مناظر میں لاٹھی چارج اور سیکیورٹی اہلکاروں اور ہجوم کے درمیان جھڑپیں بھی نظر آئیں۔ اطلاعات کے مطابق بغیر ٹکٹ داخل ہونے کی کوشش کرنے والے افراد اور سیکیورٹی کے درمیان تلخ کلامی کے بعد پتھراؤ بھی ہوا۔

بدنظمی کے دوران خواتین کو ہراساں کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے۔ ایک وائرل ویڈیو میں ایک خاتون رپورٹر کو ہنگامی صورتحال کے دوران رپورٹنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جن کے چہرے پر اچانک کپڑا آ لگتا ہے جس کے بعد وہ پریشان نظر آتی ہیں۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ایک طبقہ شرپسند عناصر کو ذمہ دار قرار دے رہا ہے جبکہ دوسرے صارفین پارک ویو سٹی کی انتظامیہ کو ناقص منصوبہ بندی اور کمزور سیکیورٹی انتظامات پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ اگر اتنے بڑے ایونٹ کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں تو ایسے پروگرامز منعقد نہیں کیے جانے چاہئیں۔

تاحال پارک ویو سٹی کی انتظامیہ کی جانب سے وائرل ویڈیوز یا الزامات پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم یہ واقعہ نیو ایئر تقریبات کے انتظامات اور سیکیورٹی پر ایک اہم سوال بن کر سامنے آیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں