وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ تیراہ میں شروع کیا گیا آپریشن صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے کیا گیا، ایسے فیصلے نہ تو مسئلے کا حل ہیں اور نہ ہی دیرپا امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
ضلع خیبر کے مشران اور عمائدین کے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جرگے میں ضلع خیبر میں امن و امان کی صورتحال اور تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ قومی مشران نے امن کی بحالی اور تیراہ متاثرین کی باعزت نقل مکانی کے حوالے سے تجاویز اور آراء پیش کیں۔
وزیراعلیٰ نے تیراہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت متاثرین کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گی، تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی مدد کے لیے پوری قوم متحد ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتیں اور مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، ہم دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں مگر ساتھ ہی امن اور مذاکرات کے حامی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد چھوٹے آپریشنز کے بعد بھی اگر امن کی ضمانت نہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے کیسے نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں۔ اگر صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا جاتا تو قوم کو ساتھ ملا کر اتفاقِ رائے سے آگے بڑھا جا سکتا تھا۔
وزیراعلیٰ نے قبائلی عوام کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قبائل نے ملک کے لیے بے مثال قربانیاں دیں، مگر ایک منظم مائنڈ سیٹ ایسا ہے جو پشتون اور قبائلی عوام کو مین اسٹریم میں شامل نہیں دیکھنا چاہتا، یہ رویہ گزشتہ 75 برس سے جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ منتخب ہونے کے فوراً بعد ان کے خلاف منفی اور گمراہ کن پراپیگنڈا شروع کیا گیا، تاہم عوامی حمایت سے ہر منفی بیانیے کو شکست دی۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے اپنے عوام سے بندوق کے بجائے قلم دینے کا وعدہ کیا ہے، ملک کے دفاع کے لیے صفِ اول میں کھڑے ہوں گے اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے عوام کو شعور دیا ہے جس کی بدولت وہ سچ اور منافقت میں فرق جانتے ہیں۔









