سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد کی ضلعی کچہری میں آڈیو لیک کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش ہو کر سرنڈر کر دیا۔ عدالت نے علی امین گنڈاپور اور شریک ملزم اسد فاروق خان پر فردِ جرم عائد کر دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصر من اللہ بلوچ نے سماعت کے دوران علی امین گنڈاپور کے وارنٹِ گرفتاری معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف اشتہاری کارروائی ختم کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ احتیاط اور حاضری یقینی بنائی جائے، اور ایسی صورتحال میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی جا سکتی ہے۔ کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
علی امین گنڈاپور کا موقف
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگر ملک کے اندرونی معاملات بہتر ہوتے تو بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان جیل سے باہر ہوتے۔ ان کے مطابق قانون و انصاف کا نظام ٹھیک نہیں ہے اور پارٹی میں اختلافات و نیتوں میں فرق کی وجہ سے بار بار ناکامیاں سامنے آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے سرگرم ہیں اور اس ضمن میں زیادہ تر دباؤ پیدا کرنے کی کوششیں کیں، تاہم موجودہ صورتحال میں معالج کی رسائی بھی ممکن نہیں ہو پا رہی۔ علی امین نے کہا کہ پریشر صرف باتوں سے نہیں بلکہ عمل اور رویے سے بنتا ہے، اور وہ اپنے عمل سے حالات بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ وہ آج بھی پارٹی کے لیے کام کر رہے ہیں اور اپنے لیڈر کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے، حالانکہ اب وہ کسی عہدے یا کمیٹی کے رکن نہیں ہیں۔








