جوہری مذاکرات کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ آر فورڈ مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ

واشنگٹن / بحیرۂ روم:
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کے باوجود خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایسے میں امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز USS Gerald R. Ford (CVN-78) بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق جیرالڈ آر فورڈ کیریئر اسٹرائیک گروپ آبنائے جبل الطارق عبور کر چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی بحری بیڑہ خطے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
امریکی صدر Donald Trump نے گزشتہ ہفتے اس کیریئر اسٹرائیک گروپ کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، تاہم سفارتی سطح پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری تصاویر میں بحیرۂ روم میں طیارہ بردار جہاز کے عرشے سے F/A-18F Super Hornet طیارے کی پرواز دکھائی گئی ہے، جو امریکی بحریہ کی آپریشنل تیاریوں کی عکاسی کرتی ہے۔
دفاعی حکام کے مطابق جہاز کو مشرقِ وسطیٰ پہنچنے میں چند دن لگ سکتے ہیں، جہاں یہ ممکنہ آپریشنز کے لیے تیار حالت میں موجود ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے، اور یہ اقدام ایران پر سفارتی و عسکری دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہوسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں