تہران / ریاض / تل ابیب:
مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، جس کے باعث خطہ ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات سے دوچار ہو گیا ہے جبکہ عالمی برادری نے فوری سفارتی کوششوں کی اپیل کر دی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ریاض میں قائم امریکی سفارتخانے پر دو ڈرون حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں محدود آگ بھڑک اٹھی اور معمولی نقصان رپورٹ ہوا۔ حملے کے بعد سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈی میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔
اسرائیلی افواج نے تہران اور بیروت میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں ایرانی سرکاری نشریاتی ادارہ بھی نشانہ بنا۔ ایران اور لبنان میں مجموعی ہلاکتیں 600 سے تجاوز کر گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی تقریباً چار ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے اور امریکا تہران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
دوسری جانب ایران نے خلیجی ممالک کے توانائی انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا، جس کے بعد تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔ قطر انرجی نے دو تنصیبات پر حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے بھی جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق مغربی یروشلم، تل ابیب اور ایلات کے اوپر متعدد میزائل فضا میں تباہ کر دیے گئے، تاہم حالیہ حملوں میں اسرائیل میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سفارتخانے بند، شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت
خطے کی بگڑتی صورتحال کے باعث امریکا اور کینیڈا نے متعدد سفارتخانے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔
کویت میں امریکی سفارتخانے نے سفارتی سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کرتے ہوئے تمام قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق حالیہ فوجی واقعات میں کویت میں چھ امریکی فوجی ہلاک جبکہ تین لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، جنہیں “فرینڈلی فائر” قرار دیا گیا ہے۔
کینیڈا کی ریاض ایمبیسی نے بھی 6 مارچ تک بندش کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ بغداد میں امریکی سفارتخانے نے غیر ہنگامی عملے کو فوری ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے بعد جدہ، ریاض اور ظہران میں امریکی شہریوں کو “شیلٹر اِن پلیس” ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
امریکی ہنگامی ایڈوائزری
امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مغربی کنارے، غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود امریکی شہریوں کو فوری طور پر ان ممالک سے نکلنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی معیشت، توانائی سپلائی اور خطے کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔









