اے آئی گروک نے ایران حملے کی تاریخ کیسے درست بتا دی؟

واشنگٹن/تل ابیب: امریکی ٹیک ارب پتی ایلون مسک کا مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ ‘گروک’ ایک غیر معمولی پیش گوئی کے بعد عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ گروک نے مبینہ طور پر مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والے حالیہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے لیے 28 فروری کی تاریخ پہلے ہی بتا دی تھی۔

پیش گوئی کیسے سامنے آئی؟
رپورٹس کے مطابق یہ پیش گوئی دی یروشلم پوسٹ کی جانب سے 25 فروری کو کیے گئے ایک تجربے کے دوران سامنے آئی۔ اس تجربے میں 4 بڑے اے آئی ماڈلز – کلاوڈ، جیمنائی، چیٹ جی پی ٹی اور گروک – کو ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے ایک مخصوص تاریخ بتانے کا کہا گیا تھا۔

گروک کی پیش گوئی بمقابلہ دیگر اے آئی ماڈلز
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیگر اے آئی ماڈلز نے یا تو ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا یا مارچ کے آغاز کی عمومی تاریخیں بتائیں۔ جیمنائی نے 3 مارچ جبکہ کلاوڈ نے 4 مارچ کی تاریخیں بتائیں۔ چیٹ جی پی ٹی نے کوئی واضح جواب نہیں دیا اور کہا کہ مستقبل کی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔

تاہم گروک نے 2 مرتبہ 28 فروری کی نشاندہی کی۔ گروک نے اس کی وجہ جنیوا میں جاری سفارتی مذاکرات کے ممکنہ خاتمے کو قرار دیا تھا۔

پیش گوئی درست ثابت
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی تصدیق ہوئی تھی۔ ایران کی وزارت صحت کے مطابق 28 فروری سے جاری ان حملوں میں اب تک کم از کم 1444 افراد شہید اور 18551 زخمی ہو چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے
اے آئی ماہرین کا کہنا ہے کہ گروک کی یہ پیش گوئی حیران کن ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز ڈیٹا پیٹرنز کی بنیاد پر پیش گوئیاں تو کر سکتے ہیں لیکن ان پر مکمل انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ایلون مسک کا ردعمل
ایلون مسک کی جانب سے اس حوالے سے اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر گروک کی اس پیش گوئی کو خوب شیئر کیا جا رہا ہے اور لوگ اسے ‘اے آئی کا کمال’ قرار دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں