وزیرِاعظم محمد شہباز شریف اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی موجودہ کشیدہ صورتِ حال اور امن کے قیام کی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیرِاعظم آفس کے مطابق ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی گفتگو میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، خصوصاً حالیہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات کی شدید مذمت کی اور ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
انہوں نے حملوں میں 1900 سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے دعا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش ظاہر کی۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو آگاہ کیا کہ پاکستان، نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سطح پر امریکا، برادر خلیجی ممالک اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ سفارتی کوششوں سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی مؤثر راہ نکلے گی۔
دوسری جانب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے ایران کا مؤقف بیان کیا اور مذاکرات و ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف بھی کی۔
گفتگو کے اختتام پر وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔









