تہران/نئی دہلی – ایران کے پہاڑی اور ریگستانی علاقے اسے ایک مضبوط قلعے کی حیثیت فراہم کرتے ہیں، جہاں شمال، مغرب اور جنوب سے پہاڑی سلسلے قدرتی دفاعی دیوار کا کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ جغرافیائی عوامل کسی بھی زمینی حملے کو انتہائی مشکل اور خطرناک بنا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے گزشتہ ماہ سے ایران پر حملے شروع کیے ہیں، لیکن ایرانی مزاحمت توقع سے کہیں زیادہ سخت ثابت ہو رہی ہے۔
بھارتی میڈیا پر سابق بھارتی کرنل اور جنگی مبصر راجیو اگروال کے شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق امریکا نے 5,000 سے 7,000 فوجی ایران میں بھیجنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ ان میں 82 ویں ایئر بورن ڈویژن، 31 ویں اور 11 ویں میرین ایکسپڈیشنری یونٹس شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان کا ہدف خلیج فارس کے اہم جزائر، نیوکلیئر سائٹس اور بندرگاہیں ہو سکتی ہیں۔
ایران کی قدرتی دفاعی رکاوٹیں
سابق بھارتی کرنل راجیو اگروال کے مطابق ایران کی اہم دفاعی رکاوٹیں دو بڑے پہاڑی سلسلے ہیں:
🏔️ زاگروس پہاڑ:
شمال مغرب سے جنوب مشرق تک 1,500 کلومیٹر پر پھیلا یہ سلسلہ عراق اور ترکی کی طرف سے ممکنہ حملے کو روکنے میں قدرتی دیوار کا کردار ادا کرتا ہے۔
🏔️ البروز پہاڑ:
شمال میں خزر کے ساحل کے ساتھ واقع یہ سلسلہ ایران کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ دماوند پر مشتمل ہے اور شمالی راہداری کو محفوظ بناتا ہے۔
🏜️ ریگستان:
وسطی ایران میں دشتِ لوط اور دشتِ کبیر کے ریگستان زمینی آپریشنز کو مزید مشکل بناتے ہیں، جہاں درجہ حرارت انتہائی بلند اور راستے محدود ہیں۔
خلیج فارس کے جزائر: جغرافیائی اہمیت اور خطرات
بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق خلیج فارس کے جزائر جیسے خارگ جزیرہ، ابو موسیٰ، بڑے اور چھوٹے جزائر تنب، قشم، ہرمز اور لارک کی جغرافیائی اہمیت بے حد ہے۔ یہ جزائر تیل کی ترسیل اور بحری راستوں کی نگرانی کے لیے اسٹریٹجک حیثیت رکھتے ہیں۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ان جزائر میں قدرتی پناہ گاہوں کی کمی اور ایران کے قریب ہونے کے باعث کسی بھی فوجی کارروائی میں خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
امریکا کے لیے زمینی آپریشن کے محدود آپشنز
سابق بھارتی کرنل راجیو اگروال کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس زمینی آپریشن کے محدود آپشنز ہیں:
- شمالی ایران (کویت راستے):
کویت سے شمالی ایران میں داخل ہو کر اہواز اور آبادان کی طرف بڑھنا، تاہم یہ راستہ زاگروس پہاڑوں کی پیچیدہ جغرافیائی صورتحال سے گزرتا ہے۔ - مشرقی ایران (پاکستان راستے):
پاکستان کے راستے بلوچستان سرحد سے محدود کارروائی ممکن ہے، لیکن یہاں بھی رکاوٹیں زیادہ اور ممکنہ مقاصد کم ہیں۔
مبصر کے مطابق ان دونوں راستوں پر پہاڑ، ریگستان اور مقامی مزاحمت بڑی رکاوٹیں ہیں۔
ماہرین کی رائے: محدود مقاصد ہی ممکن
بھارتی مبصر راجیو اگروال کا کہنا ہے کہ کوئی بھی زمینی آپریشن صرف مخصوص اور محدود مقصد کے لیے ہونا چاہیے۔ ممکنہ اہداف میں نیوکلیئر یورینیئم کے خاتمے یا کلیدی جزائر پر قبضہ شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بغیر صحیح منصوبے اور مقامات کے کوئی بھی بڑی زمینی کارروائی انتہائی خطرناک اور مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔ ایران کے پہاڑ، ریگستان اور اسٹریٹجک جزائر کسی بھی حملہ آور کے لیے چیلنجز کی ایک لمبی فہرست پیش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سے جاری امریکا اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع خطے میں بڑے پیمانے پر کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے، اور عالمی طاقتوں کی نظر اس جنگ کے ممکنہ نتائج پر ہے۔









