متحدہ عرب امارات کے اوپیک سے باضابطہ انخلاء کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکا کو اس پیش رفت سے ممکنہ فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یو اے ای کافی عرصے سے اوپیک کی جانب سے مقرر کردہ پیداوار کی حدوں پر اعتراض کر رہا تھا۔ یو اے ای نے تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی، تاہم اوپیک کی پالیسیوں کے باعث وہ اپنی مکمل پیداواری صلاحیت کو عالمی مارکیٹ میں نہیں لا سکا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوپیک سے علیحدگی کے بعد یو اے ای اب زیادہ مقدار میں تیل فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہوگا، جس سے عالمی منڈی میں سپلائی بڑھ سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالات معمول پر آنے کے بعد یو اے ای یومیہ تقریباً 20 لاکھ بیرل اضافی تیل مارکیٹ میں لا سکتا ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگا۔
رپورٹ میں شامل تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اوپیک کی کمزور ہوتی گرفت امریکا کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے عالمی تیل کی قیمتوں پر کارٹیل کا اثر کم ہوگا۔ اس دوران امریکا خود بھی دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے اور موجودہ بحران میں اسے معاشی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔
مزید برآں، یو اے ای کا یہ اقدام امریکا کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی تعلقات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اوپیک کے دیگر رکن ممالک بھی اسی طرح کے فیصلوں پر غور کر سکتے ہیں، تاہم تنظیم کے مکمل خاتمے کے بجائے اس کے بتدریج کمزور ہونے کا امکان زیادہ ہے۔
خلیجی تعاون کونسل کے تناظر میں بھی اس فیصلے کے علاقائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے خطے کی معاشی و سیاسی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔









