پاکستانی بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح کا انکشاف، وزارتِ صحت اور یونیسیف کی رپورٹ جاری

وزارتِ صحت پاکستان اور یونیسیف کی مشترکہ رپورٹ میں ملک کے مختلف شہروں میں بچوں کے خون میں سیسے (Lead) کی موجودگی کا تشویشناک انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 7 بڑے شہروں میں کیے گئے سروے کے دوران بچوں کے خون کے نمونے حاصل کیے گئے، جن میں اسلام آباد، ہری پور، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور راولپنڈی شامل ہیں۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 1 سے 3 سال کی عمر کے ہر 10 میں سے 4 بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار خطرناک حد تک موجود ہے، جو صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

مزید برآں، حطار (ہری پور) میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک پائی گئی، جہاں 88 فیصد بچوں کے خون میں سیسہ موجود تھا۔ دوسری جانب اسلام آباد میں یہ شرح نسبتاً کم یعنی 1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کے مطابق بچوں کے خون میں سیسے کی موجودگی دماغی نشوونما، سیکھنے کی صلاحیت اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، اور اس کے ذرائع میں آلودہ ہوا، صنعتی فضلہ، پینے کا پانی اور پینٹ شامل ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں