ایران جنگ، مہنگائی اور امیگریشن: امریکی وسط مدتی انتخابات میں اہم ایشوز ہیں


نیویارک ( آواز نیوز)   کی مختلف ریاستوں میں وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ ملک بھر میں حکومت کی مختلف سطحوں پر انتخابات ہو رہے ہیں تاہم ووٹرز کے لیے سب سے اہم مرحلہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے ارکان کا انتخاب ہے۔ اس وقت کانگریس کے دونوں ایوانوں پر صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے۔ تاہم یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ

ایران جنگ، مہنگائی اور امیگریشن: امریکی وسط مدتی انتخابات میں اہم ایشوز ہیں۔ جیت اور ہار کا فیصلہ ان ہی امور پر ہوگا۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران وسط مدتی انتخابات سے قبل اخراجاتِ زندگی میں اضافہ بہت سے امریکیوں کے لیے ایک اہم مسئلہ رہا ہے، کیونکہ سال بھر کے دوران متعدد بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
لوگوں کو خاص طور پر اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ محسوس ہو رہا ہے، جو ستمبر تک کے ایک سال میں 2.5 فیصد بڑھ چکی ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران مجموعی افراطِ زر 3.7 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
اسی مدت میں اوسط فی گھنٹہ اجرت نسبتاً کم رفتار سے بڑھی اور اس میں 3 فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ لوگوں کی آمدنی قیمتوں میں اضافے کا پورا ساتھ نہیں دے پا رہی۔
افراطِ زر میں اضافے کی بڑی وجوہات میں امریکہ کی ایران کے ساتھ جنگ اور صدر کی جانب سے عائد کردہ محصولات شامل ہیں۔
ستمبر تک کے ایک سال میں گاڑیوں کے ایندھن کی قیمتوں میں 34.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث جنگ کے دوران عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتیں اس سال نئی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار تقریباً 1,000 انتخابی نگرانوں اور مبصرین کو تمام 50 ریاستوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔
محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ ان نگرانوں کو اس بات کی جانچ کے لیے استعمال کیا جائے گا کہ وفاقی انتخابی قوانین پر عمل درآمد ہو رہا ہے تاکہ ’آزادانہ اور منصفانہ انتخابات‘ کو یقینی بنانے میں مدد مل سکے۔
ماضی کی حکومتیں بھی اسی نوعیت کی نگرانی کرتی رہی ہیں، تاہم یہ اقدام اس پیمانے پر پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں