سال 2025 پاکستان کرکٹ کے لیے کامیابیوں اور یادگار کارکردگیوں کا سال ثابت ہوا، جہاں قومی ٹیم نے سہ فریقی سیریز، ہانگ کانگ سکسز، ایمرجنگ ایشیا کپ اور انڈر 19 ایشیا کپ جیسے اہم ٹائٹلز اپنے نام کیے، وہیں کئی کھلاڑیوں نے انفرادی سطح پر بھی نمایاں ریکارڈز قائم کیے۔
قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو محمد عباس، محمد ساجد، نعمان علی، محمد نواز، حسن علی، سعدیہ اقبال اور فاطمہ ثناء نے بولنگ کے شعبے میں غیر معمولی کارکردگی دکھا کر ٹیم کی فتوحات میں کلیدی کردار ادا کیا۔
سال کے آغاز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی اسپن جوڑی ساجد خان اور نعمان علی نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہم ریکارڈز اپنے نام کیے۔ دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل یہ سیریز ایک ایک سے برابر رہی، تاہم نعمان علی کی کارکردگی خاص طور پر نمایاں رہی۔
بائیں ہاتھ کے اسپنر نعمان علی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں مجموعی طور پر 16 وکٹیں حاصل کیں، جس کے نتیجے میں وہ آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں ٹاپ 5 بولرز میں شامل ہوگئے۔ اسی سیریز کے دوران انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کر کے تاریخ رقم کی اور وہ اسپنر کی حیثیت سے ٹیسٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے، جبکہ مجموعی طور پر ٹیسٹ تاریخ کے پانچویں پاکستانی بولر ہیں۔
نعمان علی نے اسی سیریز میں ایک اننگز میں 5 وکٹیں اور میچ میں 10 وکٹیں لینے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ رواں سال اکتوبر میں جنوبی افریقا کے خلاف کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں بھی ان کی کارکردگی شاندار رہی، جہاں پہلے ٹیسٹ میں 10 وکٹیں لینے پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
اس کے علاوہ نعمان علی نے سابق عظیم لیگ اسپنر عبدالقادر کا 37 سال پرانا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ انہوں نے مسلسل پانچ ٹیسٹ میچز میں 46 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ عبدالقادر نے 44 وکٹیں لی تھیں۔ اب تک نعمان علی ٹیسٹ کرکٹ میں تین مرتبہ 10 وکٹیں اور 9 مرتبہ 5 وکٹیں لے چکے ہیں، جبکہ 21 میچز میں ان کی وکٹوں کی تعداد 97 ہو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق 2025ء کی یہ کارکردگیاں نہ صرف پاکستان کرکٹ کی گہرائی اور معیار کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ آنے والے برسوں کے لیے ٹیم کے روشن مستقبل کی بھی نوید ہیں۔









