عمران خان کے دور کے خاتمے کا وقت قریب، ان کے بعد قیادت کا فیصلہ قوم کو کرنا ہوگا: اقرار الحسن

کراچی: معروف ٹی وی اینکر اقرار الحسن کا کہنا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے سیاسی منظرنامے سے ہٹنے اور ان کے دور کے اختتام کا وقت قریب آتا دکھائی دے رہا ہے۔

لندن میں گفتگو کرتے ہوئے اقرار الحسن نے کہا کہ عمران خان ماشاءاللہ 74 برس کے ہو چکے ہیں اور وہ اپنی زندگی اور سیاست میں اپنا حصہ ادا کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کے دور میں کچھ فیصلے درست ثابت ہوئے جبکہ کئی سیاسی غلطیاں بھی ہوئیں، تاہم اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے سیاسی کردار کا اختتامی مرحلہ آ رہا ہے۔

اقرار الحسن نے کہا کہ عمران خان کے بعد قوم، خصوصاً جین زی، کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آگے کا راستہ کیا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان سمیت ہم سب نے ایک دن اس دنیا سے جانا ہے مگر ملک اور قوم کو باقی رہنا ہے، اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ عمران خان کے بعد قیادت کس کے ہاتھ میں ہوگی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا قوم ایک بار پھر سیاسی خاندانوں کی آئندہ نسلوں کی پیروی کرے گی، یا کسی نئی شخصیت کو برسوں کے لیے سیاسی بت بنا لیا جائے گا، یا پھر ایسا نظام تشکیل دیا جائے گا جس میں آرگینک لیڈرشپ ابھرے اور عام لوگ ملک کی قیادت کریں، جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔

جین زی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اقرار الحسن نے کہا کہ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جن بومرز پر وہ تنقید کرتے ہیں، ان میں ان کے اپنے والدین بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے مسائل کا حل نہ کسی ایک بومر میں ہے اور نہ ہی اس کے مخالف بومر میں۔

عمران خان کی ضمانت اور رہائی سے متعلق سوال پر اقرار الحسن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق عمران خان خود یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ عدالتیں آزاد نہیں، ایسے میں اگر کسی عدالت سے انصاف مل بھی جائے تو اسے دباؤ یا ڈیل کا نتیجہ سمجھا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی ڈیل کے بغیر عمران خان کی رہائی ممکن نظر نہیں آتی، تاہم اگر وہ باہر آتے ہیں تو اس سے یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ وہ کسی مفاہمت کے نتیجے میں رہا ہوئے، جس کا سیاسی نقصان خود پی ٹی آئی کو ہو سکتا ہے۔ اقرار الحسن کے مطابق عمران خان اس وقت اپنے ہی بنائے گئے سوشل میڈیا بیانیے کے دباؤ میں ہیں اور اسی وجہ سے ان کے پاس جیل میں رہنے کے سوا کوئی واضح آپشن نظر نہیں آتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں