راولپنڈی:
خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان نے وفاقی حکومت کو بے اختیار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مذاکرات کے لیے جن پانچ اہم شخصیات کا ذکر کیا جاتا ہے، ان میں واحد حقیقی عوامی مینڈیٹ بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے پاس ہے، جبکہ نواز شریف اور شہباز شریف بااختیار نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے تابع ہیں۔
راولپنڈی میں اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے سب سے پہلے اعتماد کی فضا قائم کرنا ضروری ہے اور اس کی ذمہ داری حکومت پر زیادہ عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی قیادت میں تحریک انصاف ایک مضبوط اور منظم سیاسی قوت ہے۔
ترجمان کے پی حکومت نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے مذاکرات سے متعلق بیانات مذاق کے مترادف ہیں، جبکہ 9 مئی کے مقدمات کو احتجاج سے روکنے کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق 9 مئی کے کیسز اب ایک فالز فلیگ آپریشن ثابت ہوتے جا رہے ہیں۔
شفیع جان نے انکشاف کیا کہ 4 دسمبر کے بعد بانی پی ٹی آئی کی فیملی سے کوئی ملاقات نہیں ہونے دی گئی، جبکہ وکلا سے آخری ملاقات 16 اکتوبر کو ہوئی تھی، جو کہ ان کا بنیادی آئینی حق ہے۔
انہوں نے توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 59 صفحات پر مشتمل فیصلہ جونیئر وکیل کے ذریعے سنانا عدالتی عمل پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پی ٹی آئی کی تحریک مومنٹم پکڑتی ہے تو اسی وقت مذاکرات کی بات شروع کر دی جاتی ہے۔
ترجمان کے مطابق اسٹریٹ موومنٹ کی قیادت سہیل آفریدی کر رہے ہیں اور ان کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لاہور میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں پر کرفیو جیسی صورتحال پیدا کی گئی، لنڈا بازار میں دکانیں بند کرا کے 80 افراد پر مقدمات درج کیے گئے اور آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
شفیع جان نے کہا کہ کراچی میں حکومت سندھ کا رویہ نسبتاً خوش آئند ہے اور پی ٹی آئی سندھ میں اپنے آئینی و قانونی حقوق کے تحت سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق اسٹریٹ موومنٹ اب ایک بڑی عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے









