ٹرمپ کا گرین لینڈ پر حملے کا منصوبہ بنانے کا حکم؟ امریکی فوجی قیادت مخالفت پر ڈٹ گئی، برطانوی اخبار کا دعویٰ

برطانوی اخبار ڈی میل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجی سربراہان کو گرین لینڈ پر حملے کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم دے دیا ہے، تاہم سینئر امریکی فوجی قیادت اس اقدام کی شدید مخالفت کر رہی ہے۔
اخبار کے مطابق امریکی فوجی عہدیدار صدر ٹرمپ کی توجہ نسبتاً کم متنازع امور کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں روس کے مبینہ گھوسٹ جہازوں کو سمندروں میں روکنا یا ایران کے خلاف کارروائی جیسے آپشنز شامل ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کو گرین لینڈ پر حملے کی منصوبہ بندی کا حکم دیا، تاہم جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ فوجی قیادت کے مطابق ایسا اقدام غیرقانونی ہوگا اور امریکی کانگریس بھی اس کی حمایت نہیں کرے گی۔
اخبار کے مطابق صدارتی مشیر اسٹیفن ملر سمیت صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے میں شامل کئی اہلکار گرین لینڈ پر حملے کے حامی ہیں۔ ان حلقوں کو وینزویلا کے خلاف مبینہ کامیاب کارروائی سے مزید حوصلہ ملا ہے۔
ڈی میل کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی معیشت کی بگڑتی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ معاملہ اٹھا رہے ہیں اور مڈٹرم انتخابات سے قبل ووٹرز کی توجہ معاشی مسائل کے بجائے گرین لینڈ کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ پر حملہ کیا تو یہ برطانوی وزیراعظم سے کھلا اختلاف ہوگا اور اس اقدام کے نتیجے میں نیٹو اتحاد ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اخبار کے مطابق بعض یورپی حکام کو شبہ ہے کہ میک امریکا گریٹ اگین (MAGA) کے حامی حلقے دانستہ طور پر ایسا بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ انہیں علم ہے کہ کانگریس صدر ٹرمپ کو نیٹو سے نکلنے کی اجازت نہیں دے گی، تاہم گرین لینڈ پر حملے کی صورت میں یورپی ممالک خود نیٹو چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ڈنمارک اس بات پر آمادہ ہو سکتا ہے کہ وہ امریکا کو گرین لینڈ تک مکمل فوجی رسائی دے دے، بشرطیکہ چین اور روس کی رسائی روکی جائے۔
اخبار کے مطابق نومبر میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر صدر ٹرمپ کے پاس موسمِ گرما تک صورتحال قابو میں لینے کا وقت ہے، اسی لیے امریکی اقدام جلد متوقع ہے۔ نیٹو کا سربراہ اجلاس 7 جولائی کو منعقد ہو رہا ہے، جسے ممکنہ ڈیل کے لیے فیصلہ کن موقع قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈی میل نے بعض امریکی جنرلز کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نزدیک صدر ٹرمپ سے ڈیل کرنا “پانچ سال کے بچے سے ڈیل کرنے” کے مترادف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں