مولانا فضل الرحمان کا پیس بورڈ پر سخت ردعمل، غلامی قبول نہ کرنے کا اعلان، حکومت کو کھلی وارننگ

اسلام آباد:
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیس بورڈ میں شمولیت، امریکی پالیسیوں اور اسرائیل کے کردار پر شدید تنقید کی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر وہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نکل سکتے ہیں تو موجودہ حکمرانوں کے خلاف بھی نکل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غلامی اگر نواز شریف اور شہباز شریف قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم غلامی قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر اسرائیل کی جارحیت کو تقویت دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکا نے افغانستان، عراق اور لیبیا کو تباہ کیا، اب خطے کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ مولانا کے مطابق اسرائیل کے عزائم ابتدا سے اسلامی ریاستوں کے خاتمے سے جڑے رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ اگر اسرائیل کے اقوام متحدہ میں ہونے کی بنیاد پر اس کے ساتھ بیٹھا جا سکتا ہے تو پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی پابندی کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا۔

سربراہ جے یو آئی نے 18 سال سے کم عمر شادی سے متعلق قانون سازی کو بھی غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے قوانین کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیجا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس قانون کی مزاحمت کریں گے اور ایوان میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں