سانحہ گل پلازہ: کمشنر کراچی کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ مکمل، 79 اموات کی تصدیق


کراچی: کمشنر کراچی نے سانحہ گل پلازہ سے متعلق حتمی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آتشزدگی گراؤنڈ فلور پر واقع فلاور شاپ میں بچوں کے ہاتھوں لگی۔ رپورٹ کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی اور ایئرکنڈیشننگ ڈکٹس کے ذریعے مختلف حصوں تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں 79 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں گل پلازہ کے میزنائن فلور پر ہوئیں۔ رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے تیار کی ہے جسے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کیا جائے گا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات، ریسکیو آپریشن، آگ بجھانے کے اقدامات اور متعلقہ اداروں کی کارروائی کی تفصیلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرین، عینی شاہدین اور ریسکیو حکام سے حاصل کردہ بیانات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگی، جبکہ پہلا فائر ٹینڈر 10 بج کر 37 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچا۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی 10 بج کر 30 منٹ پر گل پلازہ پہنچ چکے تھے۔
رپورٹ میں واقعے کے دوران ریسکیو میں پیش آنے والی مشکلات اور حفاظتی انتظامات کی کمی کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں