تہران/تل ابیب/بغداد:
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تہران سمیت مختلف شہروں میں اہم سرکاری اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کے دفاتر کے قریب علاقے اور صدارتی دفتر کے اطراف بھی دھماکے سنے گئے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سمندر اور فضا سے کم از کم 30 مقامات پر میزائل داغے گئے، جبکہ جنوبی شہر میناب میں ایک اسکول پر حملے کے نتیجے میں طالبات سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے کئی سینئر کمانڈرز اور سیاسی شخصیات بھی مارے گئے ہیں۔
حملوں کے بعد ایران نے ’فتح خیبر‘ کے نام سے جوابی آپریشن شروع کرتے ہوئے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کر دی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق 75 میزائل داغے گئے جس کے بعد تل ابیب، مقبوضہ بیت المقدس اور شمالی اسرائیل میں سائرن بج اٹھے اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ادھر امریکی سرپرستی میں اسرائیل کی جانب سے عراق کے دارالحکومت بغداد میں حشد الشعبی (پی ایم ایف) کے ہیڈکوارٹر پر بھی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہو گئے، جبکہ ہوائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی جوابی کارروائی کے دوران قطر، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ العدید ایئر بیس (قطر)، السالمیہ بیس (کویت)، الظفرہ ایئر بیس (یو اے ای)، بحرین میں امریکی نیول بیس اور اردن میں کنگ حسین ایئر بیس پر میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں۔ کئی ممالک میں سائرن بجتے رہے جبکہ بعض علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
برطانیہ نے وضاحت کی ہے کہ وہ حملے میں شامل نہیں، جبکہ جرمنی نے کہا ہے کہ اسے پیشگی اطلاع تھی۔ یوکرین کی وزارت خارجہ نے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے اور عالمی سطح پر اس کے سیاسی و معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔









