اسلام آباد:
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث فضائی روٹس بند ہونے سے پاکستان سمیت متعدد ممالک کے مسافر مختلف مقامات پر پھنس گئے ہیں، جبکہ ایران میں اس وقت بھی تقریباً 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔
میڈیا بریفنگ کے دوران اسحاق ڈار نے بتایا کہ ابوظبی میں میزائل گرنے کے واقعے میں ایک پاکستانی شہری شہید ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں تقریباً 40 ہزار پاکستانی موجود ہیں جن میں بڑی تعداد زائرین کی ہے، جبکہ قطر میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانی مقیم ہیں اور 1450 افراد وزٹ ویزے پر وہاں موجود ہیں۔
وزیر خارجہ کے مطابق ایران میں اس وقت 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں، جبکہ تقریباً 300 ایرانی شہری پاکستان آ چکے ہیں۔ اب تک 792 پاکستانی ایران سے وطن واپس پہنچ چکے ہیں اور مزید 64 پاکستانی آذربائیجان منتقل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے بیشتر فضائی راستے بند ہیں، جس کے باعث بین الاقوامی سفر شدید متاثر ہوا ہے۔ عمان اور سعودی عرب کے علاوہ تقریباً تمام فضائی روٹس بند ہیں، تاہم زمینی راستے کھلے ہیں لیکن ان کے ذریعے سفر میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔
اسحاق ڈار نے پاکستانی شہریوں کے انخلا میں تعاون پر آذربائیجان حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ باکو سے پروازیں آپریشنل ہیں اور پاکستانی شہری وہاں سے انخلا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے۔ ان کے مطابق حالیہ کشیدگی میں ایران کی جانب سے سعودی عرب اور عمان میں نسبتاً کم حملے کیے گئے ہیں۔









