امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے شدت اختیار کرگئے، تہران سمیت کئی شہروں میں شدید بمباری، 1200 سے زائد افراد شہید

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری جنگ کے ساتویں روز دارالحکومت تہران پر شدید فضائی بمباری کی گئی، جسے حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ شدید حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رات بھر تہران کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ کئی مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے جس سے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

رپورٹس کے مطابق حملوں کے دوران رہائشی علاقوں کے قریب مقامات اور تہران یونیورسٹی کے اطراف بھی دھماکے ہوئے جس کے باعث متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی B-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے ایران کے زیر زمین نصب بیلسٹک میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا اور درجنوں طاقتور پینیٹریٹر بم گرائے۔

اطلاعات کے مطابق حملے صرف تہران تک محدود نہیں رہے بلکہ شیراز، کرمان شاہ اور اصفہان کے اطراف بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جہاں ایران کے کئی اہم میزائل اڈے موجود ہیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران پر حملوں کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک حملوں میں کم از کم 1230 افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں 181 بچے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک گرلز اسکول پر حملے میں بھی بڑی تعداد میں بچوں کی شہادت ہوئی جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں