مشرقی وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ عالمی جنگ کے خدشات کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بعض عہدیداروں نے جوہری حملوں سے محفوظ خصوصی بنکرز (Doomsday Bunkers) خریدنا شروع کر دیے ہیں۔
امریکی ریاست ٹیکساس میں قائم کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو رون ہبارڈ نے تصدیق کی کہ ٹرمپ کابینہ کے دو ارکان نے بم پروف بنکرز خریدے ہیں۔ یہ بنکرز ڈرون حملوں، بیلسٹک میزائلوں اور ممکنہ جوہری جنگ سے بچاؤ کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ مشترکہ حملوں اور اس کے بعد ایرانی جوابی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو یہ تیسری عالمی جنگ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
رون ہبارڈ نے برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد بنکرز کی خریداری کے لیے کالز میں 10 گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی نے ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں سے صرف دو روز قبل دبئی میں اپنا دفتر قائم کیا، جس کے بعد دبئی کے چند ارب پتی افراد نے بھی بنکرز خریدنے کے لیے کمپنی سے رابطہ کیا۔
ان بنکرز کی قیمت 50 لاکھ ڈالرز سے زائد ہے۔ رون ہبارڈ نے کہا کہ غزہ جنگ اور روس–یوکرین جنگ کے دوران بھی بنکرز کی طلب میں اضافہ ہوا تھا، تاہم ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
کمپنی کی ماہانہ فروخت 20 لاکھ ڈالرز سے بڑھ کر اگلے ماہ 5 کروڑ ڈالرز تک پہنچنے کی توقع ہے۔









