ایران جنگ: خامنہ ای کی شہادت کے 14 دن بعد وائٹ ہاؤس پریشان، ٹرمپ کے لیے راستے محدود

واشنگٹن/تہران: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے دو ہفتے بعد، خطے میں جنگ ایک نئے اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ابتدائی فضائی حملوں میں ایرانی قیادت کو بڑا نقصان پہنچنے کے باوجود، ایرانی حکومت ختم نہیں ہو سکی اور اس نے فوری طور پر نئی قیادت تشکیل دے دی۔ اس صورتحال نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے راستے محدود کر دیے ہیں اور واشنگٹن صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔

ایران کی ‘موزیک ڈیفنس’ حکمت عملی
ماہرین کے مطابق، ایران کی نام نہاد ‘موزیک دفاعی حکمتِ عملی’ نے فوجی اور سیاسی نظام کو قیادت کے نقصان کے باوجود فعال رکھا ہے۔ یہ حکمت عملی تین نکات پر مبنی بتائی جا رہی ہے:

  1. حکومت کا تحفظ: کسی بھی صورت میں نظام کو ختم ہونے سے بچانا۔
  2. جوابی حملوں کی صلاحیت: محدود وسائل کے باوجود علاقائی سطح پر جوابی کارروائی کرتے رہنا۔
  3. جنگ کو طول دینا: مذاکرات کو اپنی شرائط پر مجبور کرنے کے لیے جنگ کو طویل عرصے تک جاری رکھنا۔

علاقائی اور عالمی اثرات
رپورٹس کے مطابق، ایران نے جوابی کارروائی میں خلیجی ممالک میں بحری جہازوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی تیل کی سپلائی خطرے میں پڑ گئی ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔

  • تیل کی قیمتوں میں اضافہ: عالمی سطح پر تیل اور ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ متعدد ممالک نے اپنے اسٹریٹجک تیل کے ذخائر جاری کیے ہیں، مگر مہنگائی اور سپلائی بحران برقرار ہے۔
  • خطے پر اثرات: بنگلہ دیش میں ایندھن راشننگ شروع ہو گئی ہے، جبکہ پاکستان سمیت کئی ممالک میں تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

امریکا کا ردعمل اور مشکلات
صدر ٹرمپ نے ایران سے ‘غیر مشروط ہتھیار ڈالنے’ کا مطالبہ کیا ہے، لیکن امریکی حکمت عملی پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکا فوجی برتری کے باوجود ایران کی سیاسی اور سماجی حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔

جنگ کے اثرات امریکی سیاست پر بھی پڑ رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تیل کی قیمتوں کے باعث آنے والے کانگریس انتخابات میں حکمراں ریپبلکن پارٹی کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

کیا ہیں ممکنہ راستے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے پاس اب محدود راستے ہیں:

  • محدود جنگ بندی: نقصان کو محدود کرتے ہوئے کسی قسم کا معاہدہ کرنا۔
  • زمینی فوج بھیجنا: جو کہ طویل اور تباہ کن جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔
  • ایران کے اندرونی گروہوں کی حمایت: عدم استحکام پیدا کرنا۔

تاہم ہر آپشن مزید عدم استحکام کا خطرہ رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ امریکا اب ‘فتح’ کی تعریف بدل کر محدود فوجی کامیابی کو ہی سیاسی کامیابی قرار دے سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں