تہرے قتل کیس: امِ رباب چانڈیو کا فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان

کراچی (نیوز ڈیسک) – تہرے قتل کیس میں سزا کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امِ رباب چانڈیو نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ریاست کی عدالت کی جانب سے آیا ہے، تاہم عوام حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں اور ہم عوام کی عدالت میں یہ کیس پہلے ہی جیت چکے ہیں۔

امِ رباب چانڈیو نے کہا کہ میں اس جدوجہد میں سرخرو ہو چکی ہوں اور انصاف کے حصول کے لیے میرا عزم برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک ملزم کو سزا نہ ہونا عجیب ہے، وہ ملزمان جو 3 سالوں تک روپوش رہے انہیں بھی سزا نہیں ہوئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیس میرے گھر تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ کیس جاگیرداری نظام کے خلاف مظلوم عوام کی جدوجہد پر مشتمل تھا۔ آج ہمارے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، اس لیے میں اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کروں گی۔

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ میرے حوصلے پہلے بھی بلند تھے اور آج بھی بلند ہیں۔

وکیل کا موقف:
دوسری جانب تہرے قتل کیس میں امِ رباب چانڈیو کے وکیل صلاح الدین پنہور نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ سرداری نظام کے خلاف 3 لوگوں کا دن دہاڑے قتل ہوا۔ کیس میں 3 گواہ اور میڈیکل شواہد موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے شواہد پر ہماری نظر میں سزا ہوسکتی تھی۔ وکیل نے واضح کیا کہ کیس کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں