تہران (نیوز ڈیسک) – ایران نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید کر دی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہوئی، پیغامات ثالثوں کے ذریعے پہنچائے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو بھیجی گئی تجاویز زیادہ تر غیر حقیقت پسندانہ، غیر معقول اور حد سے زیادہ تھیں۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ خوش آئند ہے کہ علاقائی ممالک امن کی کوشش کر رہے ہیں تاہم صورتِ حال کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنا ضروری ہے۔
ایرانی ترجمان نے یوکرین تنازع کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے جوڑنے کو تباہ کن غلط فہمی قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان میں ایرانی سفیر بیروت میں اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔
ٹرمپ کی دھمکی:
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اپنے جوہری عزائم ترک نہ کیے تو اسے مستقبل میں اپنے ملک سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران بالآخر اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہو جائے گا اور افزودہ مواد امریکا کے حوالے کرے گا۔ ٹرمپ کے مطابق ایران اس وقت بری طرح کمزور ہو چکا ہے اور جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے سفارتی اور فوجی آپشنز دونوں پر غور کر رہا ہے۔









