اسلام آباد (نیوز ڈیسک) – وزارتِ توانائی کے سرکاری دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ عوام فی لیٹر پیٹرول پر 211 روپے 26 پیسے صرف ٹیکس اور مختلف لیویز ادا کر رہے ہیں، جو کل قیمت کا 46 فیصد بنتا ہے۔
یہ انکشاف ان دستاویزات میں ہوا ہے جو توانائی کے شعبے کی قیمتوں کی تشکیل کے حوالے سے تیار کی گئی ہیں۔
📊 پیٹرول کی قیمت میں کیا کچھ شامل ہے؟ (فی لیٹر)
| جزو | رقم (روپے) |
|---|---|
| ایکس ریفائنری پرائس | 247.15 |
| کسٹم ڈیوٹی | 24.12 |
| ان لینڈ فریٹ مارجن | 7.52 |
| آئل مارکیٹنگ کمپنی کا منافع | 7.87 |
| پمپ ڈیلرز کا کمیشن | 8.64 |
| لیوی (Petroleum Levy) | 160.61 |
| کلائمیٹ سپورٹ لیوی | 2.50 |
| کل ٹیکس و منافع جات | 211.26 (46%) |
🔹 شہری ہر لیٹر پیٹرول پر 211 روپے 26 پیسے صرف ٹیکس، ڈیوٹی، لیوی اور کمپنیوں کے منافع کی مد میں ادا کر رہے ہیں۔
🔹 اصل ریفائنری قیمت صرف 247 روپے 15 پیسے ہے۔
⛽ ڈیزل کی قیمت میں کیا کچھ شامل ہے؟ (فی لیٹر)
| جزو | رقم (روپے) |
|---|---|
| ایکس ریفائنری پرائس | 461.23 |
| کسٹم ڈیوٹی | 35.74 |
| ان لینڈ فریٹ مارجن | 4.37 |
| آئل مارکیٹنگ کمپنی کا منافع | 7.87 |
| پمپ ڈیلرز کا کمیشن | 8.64 |
| لیوی (Petroleum Levy) | 0.00 |
| کلائمیٹ سپورٹ لیوی | 2.50 |
| کل ٹیکس و منافع جات | 59.12 (11.36%) |
🔹 ڈیزل پر شہری 59 روپے 12 پیسے فی لیٹر ٹیکس اور منافع جات ادا کر رہے ہیں۔
🔹 ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی صفر ہے جبکہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی 2.50 روپے ہے۔
پیٹرول کے حوالے سے:
کل ٹیکسز اور منافع: 211.26 روپے (کل قیمت کا 46%)
- سب سے بڑا جز: پیٹرولیم لیوی — 160.61 روپے فی لیٹر
- کسٹم ڈیوٹی: 24.12 روپے فی لیٹر
- کلائمیٹ سپورٹ لیوی: 2.50 روپے فی لیٹر
- مارکیٹنگ کمپنی منافع: 7.87 روپے فی لیٹر
- ڈیلر کمیشن: 8.64 روپے فی لیٹر
ڈیزل کے حوالے سے:
- کل ٹیکسز اور منافع: 59.12 روپے (کل قیمت کا 11.36%)
- پیٹرولیم لیوی: صفر
- کسٹم ڈیوٹی: 35.74 روپے فی لیٹر
- کلائمیٹ سپورٹ لیوی: 2.50 روپے فی لیٹر
عوام پر اثرات
ماہرین اقتصادیات کے مطابق، پیٹرول پر 46 فیصد ٹیکسز اور لیویز عوام پر بوجھ کا باعث بن رہے ہیں۔
ڈاکٹر عاصم حسین (معاشی تجزیہ کار) کا کہنا ہے:
“پیٹرول پر 160 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی سب سے زیادہ ظالمانہ ٹیکس ہے۔ یہ براہِ راست ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردنی اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔”
دستاویزات کے مطابق، ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی صفر ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیزل زیادہ تر زرعی مشینری، ٹرکوں اور بسیوں میں استعمال ہوتا ہے — مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزل پر دیگر ٹیکسز (کسٹم ڈیوٹی وغیرہ) پھر بھی موجود ہیں۔
حکومت کا مؤقف
ذرائع کے مطابق، حکومت کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کو بڑھانے کا مقصد بجٹ خسارہ پورا کرنا اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل جمع کرنا ہے۔
تاہم عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ مہنگائی کی موجودہ لہر میں اس طرح کے ٹیکسز عوام کی قوتِ خرید کو تباہ کر رہے ہیں۔









