اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات آج سے شروع

اسلام آباد ان دنوں عالمی توجہ کا مرکز ہے، جہاں امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان کلیدی مذاکرات جاری ہیں۔ دارالحکومت میں سیکیورٹی کے حیرت انگیز انتظامات کیے گئے ہیں۔

یہ مذاکرات ایسے نازک لمحات میں ہو رہے ہیں جب چھ ہفتے قبل امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے۔

اس کے بعد چھڑنے والی جنگ نے متعدد ممالک میں ہزاروں جانوں کا نقصان کیا، تیل کی ترسیل کے اہم عالمی راستے کو متاثر کیا اور توانائی کی قیمتوں کو تاریخی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

تنازع کے بعد اب پاکستانی دارالحکومت میں ہفتے اور اتوار کو اعلیٰ سطح کے امریکی اور ایرانی وفود آمنے سامنے ہیں۔ یہ پیش رفت اس دو ہفتے کی جنگ بندی کے چند دن بعد سامنے آئی ہے جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کی ثالثی سے طے پائی تھی۔ تاہم اس جنگ بندی کو مختلف تشریحات اور لبنان پر اسرائیلی حملوں میں اضافے کے باعث خطرات لاحق ہیں۔

جنگ کے دوران ایران نے خلیجی ممالک پر حملے کیے اور بعد ازاں آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند کر دیا تھا، جس سے عالمی منڈیاں ہل گئی تھیں۔ یاد رہے کہ پرامن حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس کی ترسیل اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔

مذاکرات کب اور کہاں ہوں گے؟

وزیر اعظم شہباز شریف نے دونوں فریقوں کو باضابطہ دعوت دی، جس کے بعد یہ مذاکرات آج اسلام آباد میں شروع ہو رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت مقامی وقت کے مطابق ہفتہ 10 اپریل کی صبح شروع ہو گی اور ممکنہ طور پر 11 اپریل تک جاری رہے گی۔ شہر میں 9 اور 10 اپریل کو عام تعطیل بھی رہے گی۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بتایا ہے کہ یہ مذاکرات 15 دن تک جاری رہ سکتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفود کے کچھ ارکان طویل قیام کریں گے یا مزید دوروں کے لیے واپس آئیں گے۔

مذاکرات میں کون شرکت کرے گا؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ ان کے ہمراہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی موجود ہوں گے۔

ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے، تاہم یہ واضح نہیں کہ پاسدارانِ انقلاب کے نمائندے بھی شامل ہوں گے یا نہیں۔

مذاکرات کا طریقہ کار کیا ہو گا؟

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف ابتدائی طور پر دونوں وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے، جبکہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار باضابطہ مذاکرات کی نگرانی کریں گے۔

امریکی اور ایرانی وفود الگ الگ کمروں میں موجود ہوں گے اور پاکستانی حکام ان کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کریں گے۔

جے ڈی وینس کی شرکت کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ایرانی حکام ماضی میں امریکی نمائندوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔

مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب کیوں؟

پاکستان حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد اور ملک کی بڑی شیعہ آبادی پاکستان کو ایک منفرد حیثیت دیتی ہے۔

مزید برآں پاکستان میں امریکی فوجی اڈے موجود نہیں، جس سے ایران کے نزدیک اس کی ساکھ بہتر ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے تعلقات برقرار ہیں۔

مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہے؟

دونوں فریقوں کے درمیان بڑے اختلافات ہیں۔ ایران کے 10 نکاتی منصوبے میں آبنائے ہرمز پر نگرانی، مشرق وسطیٰ سے امریکی افواج کا انخلاء اور اتحادی گروہوں کے خلاف کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہے۔

دوسری جانب امریکا چاہتا ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیئم کے ذخائر ترک کرے، جسے واشنگٹن ناقابلِ مذاکرات شرط قرار دیتا ہے، تاہم ایران نے ابھی اس پر باضابطہ رضامندی نہیں دی۔

لبنان کا مسئلہ بھی ایک بڑا تنازع ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل اس سے اختلاف کرتے ہیں۔

ممکنہ رکاوٹیں اور نتائج

تجزیہ کاروں کے مطابق فوری طور پر کسی حتمی معاہدے کا امکان کم ہے کیونکہ دونوں طرف گہرا عدم اعتماد موجود ہے۔

اسرائیل کے لبنان پر مسلسل حملے مذاکرات کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔ اگر یہ حملے جاری رہے تو مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اسرائیل کی مذاکرات میں عدم شمولیت بھی ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ وہ جنگ کا اہم فریق ہے۔

کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ تھکن کا شکار دونوں فریقین محدود پیش رفت پر آمادہ ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جوہری معاملے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے۔

عالمی توقعات

ماہرین کے مطابق سب سے اہم پیش رفت یہ ہو گی کہ دونوں فریقین براہِ راست مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ رہیں۔ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور کشیدگی میں کمی آتی ہے تو اسے بڑی کامیابی تصور کیا جائے گا، تاہم حتمی امن معاہدے کے لیے ابھی طویل اور پیچیدہ مذاکراتی عمل درکار ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں