اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار نیتن یاہو؟ ایران کا دعویٰ،

تہران/اسلام آباد (ویب ڈیسک): ایران نے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ایک مبینہ ٹیلی فون کال کو قرار دے دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسی کال نے مذاکرات کا رخ یکسر تبدیل کر دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے انتہائی نیک نیتی کے ساتھ ان مذاکرات میں شرکت کی تھی تاہم نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کو موصول ہونے والی نیتن یاہو کی فون کال نے بات چیت کا فوکس ایران سے ہٹا کر اسرائیل کے مفادات پر مرکوز کر دیا۔

عراقچی نے الزام عائد کیا کہ “امریکہ نے مذاکرات کی میز پر وہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کی جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا تھا۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور کسی بھی قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب نائب امریکی صدر جے ڈی وینس 21 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی طویل اور پیچیدہ بات چیت کے بعد کوئی معاہدہ طے پائے بغیر اسلام آباد سے واپس روانہ ہو گئے ہیں۔

امریکی خاموشی
دوسری جانب امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ کے اس سنگین الزام پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے نہ تو نیتن یاہو کی مبینہ کال کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس کی تردید کی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر ایران کا یہ دعویٰ درست ثابت ہو جاتا ہے تو اس سے یہ ثابت ہو گا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر اسرائیل کا اثر و رسوخ سفارتی میز پر بھی بھرپور طریقے سے موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں