واشنگٹن/تہران (خصوصی رپورٹ) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی اور ممکنہ مذاکرات سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعدد متنازعہ دعوے کیے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے اور ایران کے جوہری مواد کی امریکہ کو منتقلی کے بیانات شامل ہیں۔ تاہم، الجزیرہ اور عرب میڈیا ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے ان دعوؤں کی فوری تردید کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ “ایران آبنائے ہرمز کو کبھی بند نہیں کرے گا” اور “ایران اپنا جوہری ڈسٹ (افزودہ یورینیم) امریکہ کے حوالے کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔” دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ وعدے محض عارضی جنگ بندی کے تناظر میں ہیں۔ ایرانی پارلیمانی حکام کے مطابق اگر امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تو آبنائے ہرمز دوبارہ بند ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز ایران کی تزویراتی طاقت کا اہم مرکز ہے اور اسے مستقل طور پر چھوڑنا ممکن نہیں، جبکہ جوہری مواد کی منتقلی کو ایرانی عوام خودمختاری پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ یہ تضاد اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات میں مبالغہ آرائی شامل ہو سکتی ہے یا وہ عالمی تیل منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے ایسے دعوے کر رہے ہیں۔ حتمی فیصلے کا انحصار آئندہ مذاکرات پر ہوگا۔









