تہران/دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) — گزشتہ روز عارضی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے محض 24 گھنٹے بعد ایران نے اس اہم ترین آبی گزرگاہ پر دوبارہ سخت فوجی کنٹرول نافذ کر دیا ہے، جس کے باعث تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کی آمد و رفت ایک بار پھر معطل ہو گئی ہے۔
خاتم الانبیاء سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے اس صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ “آبنائے ہرمز کی سابقہ حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور یہ مکمل طور پر سخت ایرانی کنٹرول میں ہے۔” دوسری جانب سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے ایک بیان میں امریکا کو اس بندش کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ “جب تک امریکا ایران سے آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت بحال نہیں کرتا اور اپنی بحری قزاقی بند نہیں کرتا، آبنائے ہرمز سخت کنٹرول میں رہے گی۔”
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز یہ راستہ “نیک نیتی” کے تحت کھولا گیا تھا تاہم امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے پر یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرنے کا راستہ ہے، جس کے بند ہونے سے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور متعدد تجارتی بحری جہازوں نے اپنا رخ موڑ لیا ہے۔
یہ واقعہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے پر اتفاق کر لیا ہے۔









