آج رات آسمان فلکیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک دلکش اور نایاب منظر پیش کرنے والا ہے، جہاں چاند، زحل اور نیپچون ایک خاص ترتیب میں قریب نظر آئیں گے۔ اس منفرد فلکی امتزاج کے باعث آسمان پر قدرتی طور پر ایک ’’مسکراتا ہوا چہرہ‘‘ بنتا دکھائی دے گا۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق اس مظہر کو ٹرپل کنجنکشن کہا جاتا ہے، یعنی ایسا فلکی لمحہ جب زمین سے دیکھنے پر تین آسمانی اجسام ایک ہی حصے میں جمع دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ان کے درمیان فاصلہ لاکھوں اور کروڑوں کلومیٹر پر مشتمل ہوتا ہے۔
فلکی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خوبصورت منظر دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جا سکے گا۔ عام آنکھ سے سورج غروب ہونے کے تقریباً 30 سے 90 منٹ بعد چاند اور زحل کو نسبتاً آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ نیپچون چونکہ خاصا مدھم سیارہ ہے، اس لیے اسے دیکھنے کے لیے دوربین یا چھوٹی ٹیلی اسکوپ درکار ہوگی۔
ماہرین کے مطابق ایسے فلکی مظاہر نہ صرف سائنسی اعتبار سے اہم ہوتے ہیں بلکہ یہ انسان کو کائنات کی وسعت، حسن اور پیچیدگی کا احساس بھی دلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زمین سے اس طرح کے نایاب مناظر کا مشاہدہ کرنا انسان کے لیے قدرت کی ایک خاص نعمت ہے۔
فلکیات سے شغف رکھنے والوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر موسم صاف ہو تو روشنیوں سے قدرے دور جا کر چند لمحوں کے لیے آسمان کی طرف ضرور دیکھیں، کیونکہ آج رات کائنات گویا مسکرا کر انسان کو سلام کرنے والی ہے۔









