کراچی پولیس کی بڑی کامیابی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی میں ملوث دو ملزمان گرفتار

کراچی پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد بچوں سے جنسی زیادتی میں ملوث دو انتہائی خطرناک ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایس پی انویسٹی گیشن عثمان سدوزئی کے مطابق پولیس نے متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان کے علاقے میں کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مرکزی ملزم عمران اور اس کا ساتھی وقاص خان گرفتار کیے گئے۔ پولیس کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران بچوں سے زیادتی کے سات مقدمات درج ہوئے تھے۔

تحقیقات کے دوران مختلف اضلاع میں درج مقدمات کے ڈی این اے نمونے ایک ہی شخص سے میچ ہوئے، جس پر چھ سال پرانے مختلف کیسز کو جوڑ کر تفتیش کی گئی۔ تمام مقدمات میں 12 سے 13 سال کے بچوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک کیس میں اجتماعی زیادتی بھی سامنے آئی۔ درج شدہ تمام سات مقدمات میں ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔

ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی ہدایت پر 6 جنوری کو خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس کی سربراہی ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر کر رہے تھے۔ ٹیم نے 11 روز کے اندر مطلوب ترین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق مرکزی ملزم عمران منظور کالونی کا رہائشی ہے اور پنکچر کی دکان چلاتا تھا۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ چھ سال کے دوران درجنوں بچوں کو نشانہ بناتا رہا اور موٹرسائیکل کا لالچ دے کر بچوں کو ویران علاقوں میں لے جاتا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تین مقدمات میں بچوں نے عمران کو شناخت کیا جبکہ ایک مقدمے میں بچے نے عمران اور وقاص دونوں کو پہچانا۔ ایک واقعے میں شور مچنے پر ملزمان موقع سے فرار ہو گئے تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بچوں سے زیادتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے پولیس کی کارروائی کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ باقی متاثرین کی تلاش جاری رکھی جائے اور شواہد کی بنیاد پر مضبوط کیس بنا کر عدالت میں پیش کیا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ حکومت سندھ بچوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اور شہر میں کسی درندے کی کوئی جگہ نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں