برطانیہ:
ہالی ووڈ اداکارہ ایلزبتھ ہرلی نے برطانوی عدالت میں جاری ہائی پروفائل کیس کے دوران اپنی نجی زندگی میں ہونے والی سنگین مداخلت پر تفصیلی بیان دیا۔
یہ مقدمہ برطانوی میڈیا گروپ ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز کے خلاف دائر کیا گیا ہے، جس میں ایلزبتھ ہرلی، شہزادہ ہیری، گلوکار ایلٹن جان سمیت سات مشہور شخصیات نے پرائیویسی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
ایلزبتھ ہرلی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے بارے میں شائع ہونے والی 15 سے زائد خبریں غیر قانونی طریقے سے حاصل شدہ مواد پر مبنی تھیں۔ اداکارہ کے مطابق ان کے موبائل فونز ہیک کیے گئے اور ان کے گھر میں خفیہ مائیکروفون نصب کر کے نجی گفتگو سنی گئی۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کے حمل کے دوران کی طبی تفصیلات، جو ان کے بیٹے ڈیمین کی پیدائش سے متعلق تھیں، میڈیا میں شائع کی گئیں۔ ایلزبتھ نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ یہ معلومات ان کے دوست ایلٹن جان کے شوہر ڈیوڈ فرنش نے میڈیا کو فراہم کیں۔
سماعت کے دوران، ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز کے وکیل انتھونی وائٹ کی جرح کے وقت ایلزبتھ ہرلی جذباتی ہو گئیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے۔ اس موقع پر شہزادہ ہیری بھی موجود تھے جو ایلزبتھ کے بیٹے کے پاس بیٹھ کر تسلی دیتے دکھائی دیے۔
اداکارہ نے زور دیا کہ ان کے نجی معاملات کی اس طرح بے دریغ تشہیر ناقابل قبول ہے، جب کہ متعلقہ اشاعتی ادارے نے تمام الزامات کو بے بنیاد اور بہتان قرار دیا ہے۔









