دبئی سے موصولہ رپورٹس کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جنیوا روانہ ہو گئے ہیں جہاں امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام سے متعلق بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہوگا۔ یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہوں گے، جیسا کہ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے اطلاع دی ہے۔
ماضی میں ایران اور امریکا کے درمیان اسی نوعیت کے مذاکرات ہوئے تاہم خطے میں کشیدگی اور ایران و اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری پروگرام پر پابندی کے لیے طاقت کے استعمال کی دھمکی دی، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ خلیجی ممالک نے بھی انتباہ جاری کیا ہے کہ ممکنہ فوجی کارروائی سے خطے میں نئی جنگ بھڑک سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے ماضی میں 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر لیا ہے، جو ہتھیاروں کے درجے کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ امریکا کا موقف ہے کہ ایران کسی بھی سطح پر یورینیم افزودہ نہ کرے، جبکہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن سفارتی حل میں دلچسپی رکھتا ہے اور مذاکرات پر توجہ مرکوز ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کا تمام افزودہ مواد ملک سے باہر منتقل ہونا چاہیے۔
علاوہ ازیں، ایرانی وفد کی ملاقات عالمی جوہری نگران ادارے کے سربراہ سے بھی متوقع ہے۔









