2011 میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے والے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے بھارت کے خلاف پاکستان کی شکست تسلیم کرتے ہوئے ٹیم کی کارکردگی اور انتظامی امور پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
بھارتی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایسے شخص کو کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنا دیا جائے جسے کرکٹ کا علم نہ ہو تو نتائج ایسے ہی سامنے آتے ہیں۔
شعیب اختر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں نیوز کا علم نہ ہو اور کسی چینل کا سربراہ بنا دیا جائے تو وہ بھی بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔ ان کے مطابق غیر تجربہ کار افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کرنے سے نظام متاثر ہوتا ہے۔
انہوں نے ٹیم سلیکشن پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے کھلاڑیوں کو سپر اسٹار بنا دیا گیا ہے جو میچ جتوانے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا مکمل اوورز بھی نہیں کروا سکتے۔ ان کے بقول جب اس طرح کے فیصلے ہوں گے تو نتائج بھی ویسے ہی آئیں گے۔
سابق فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ کسی غیر سنجیدہ یا نااہل شخص کو بڑی ذمہ داری دینا ادارے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
شعیب اختر کے ان بیانات پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں کچھ افراد ان کی باتوں سے اتفاق کر رہے ہیں جبکہ بعض حلقے اسے سخت تنقید قرار دے رہے ہیں۔









