کویت سٹی / ریاض / بغداد:
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا اور کینیڈا نے خطے میں موجود اپنے متعدد سفارتخانے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں جبکہ امریکی شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
کویت میں قائم امریکی سفارتخانے نے اعلان کیا ہے کہ علاقائی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر سفارتی سرگرمیاں اگلے حکم تک معطل رہیں گی۔ سفارتخانے کی جانب سے تمام معمول اور ہنگامی قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی گئی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق حالیہ فوجی واقعات میں کویت میں چھ امریکی فوجی ہلاک جبکہ تین امریکی لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، جنہیں امریکی فوج نے بظاہر “فرینڈلی فائر” قرار دیا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم کینیڈین سفارتخانے نے بھی موجودہ سکیورٹی خدشات کے باعث 6 مارچ تک عارضی بندش کا اعلان کرتے ہوئے تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں۔
اسی دوران عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے نے غیر ہنگامی سرکاری عملے کو فوری ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ سکیورٹی خدشات کے باعث امریکی عملے کو بین الاقوامی ہوائی اڈے کے استعمال سے بھی روک دیا گیا ہے۔
ادھر ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے بعد سعودی عرب میں قونصلر خدمات معطل کر دی گئی ہیں جبکہ جدہ، ریاض اور ظہران میں امریکی شہریوں کو “شیلٹر اِن پلیس” ہدایات جاری کی گئی ہیں اور انہیں ذاتی سکیورٹی پلان تیار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مغربی کنارے، غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود امریکی شہریوں کو فوری طور پر ان ممالک سے روانہ ہونے کی ایڈوائزری جاری کی تھی۔









