خواجہ آصف نیب کو مطمئن نہیں کر سکے،شہزاد اکبر

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف سے پوچھا جائے تنخواہ کے اکاؤنٹ ٹرانسفر کی تفصیلات دیں تو کہتے ہیں وہ مجھے کیش دیتے تھے، خواجہ آصف کے پاس کوئی پے سلپ نہیں، خواجہ آصف کو یہ نوکری صرف اس وقت ملی جب وہ وزیر دفاع تھے، آج کل دبئی کی نوکری کیوں نہیں کر رہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ خواجہ آصف کے کیس میں بھی کیلبری فونٹ والا سلسلہ نکل آیا، خواجہ آصف نے ستمبر 2014ء میں گوجرانوالہ میں 80 ملین روپے کا پلاٹ خریدا اور بعد ازاں اسی پارٹی کو یہ پلاٹ دوبارہ فروخت کیا۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں اپنے گھر سے ملحقہ پلاٹ 125 ملین روپے میں فروخت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کی ادائیگی کی تاریخ 28 نومبر 2018 فروختگی معاہدے کے لئے چیک میں دکھائی گئی ہے، انویسٹی گیشن کے بعد معلوم ہوا کہ یہ بینک جعلی تھا کیونکہ یہی چیک فروخت کے معاہدے کے 3ماہ بعد متعلقہ بینک سے جاری کیا گیا، خواجہ آصف 507 ملین کی ٹرانزیکشن کا جواب نہیں دے سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں