سندھ حکومت کا گندم ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ، آٹے کی قیمت مستحکم رکھنے کی یقین دہانی

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آٹے کی قیمت میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں نے گندم خرید کر ذخیرہ کر رکھی ہے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ وفاق چاہتا ہے کہ تمام صوبے مل کر گندم کی ایک متفقہ پالیسی بنائیں، جبکہ صوبے میں نئی شوگر ملوں کے قیام کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزماں نے کہا کہ گندم پالیسی کے معاملے پر وفاقی حکومت سے کچھ نکات پر اختلاف ہے اور اپنے اعتراضات سے وفاق کو آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے خود مختار ہیں اور ہم وفاق کی پالیسی سے متفق نہیں، تاہم سندھ کی اپنی گندم پالیسی کامیاب رہی ہے جبکہ ایک گروہ مصنوعی قلت پیدا کر رہا ہے۔

شرجیل میمن نے دیگر اعلانات میں بتایا کہ وفاقی حکومت نے خصوصی بچوں کے سینٹر کے قیام کے لیے سندھ حکومت سے معاہدہ کیا ہے، سندھ فشریز سیکیورٹی سروسز کا ادارہ بنایا جا رہا ہے، بے نظیر بھٹو فلائی اوور کا کام ایک ماہ میں مکمل ہوگا، اور این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کی منظوری دے دی گئی ہے۔

پانی کی قلت پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے بھارت پر سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان اور دریائے سندھ کے موقف کو عالمی سطح پر مؤثر طریقے سے پیش کیا۔ ایم کیو ایم کے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کے بیان کو محض ایک بیان قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو کچھ دنوں سے نیا شوق چڑھا ہے، وہ سندھ کے مسائل پر احتجاجاً وفاقی وزارتیں چھوڑ دیں۔

انہوں نے پنجاب میں غیر ملکی خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے فوری ایکشن کو سراہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں