حکومت بزنس کمیونٹی کی پارٹنر ہے، معیشت استحکام سے ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے: محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کے تجربے کی بدولت وہ حکومت میں رہتے ہوئے بزنس کمیونٹی کے مسائل بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پاکستان اکنامک گروتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ 2022 کے سیلاب کے بعد بین الاقوامی برادری سے مدد حاصل کی گئی تھی، تاہم حالیہ سیلاب کے دوران مستحکم معاشی صورتحال کی وجہ سے وزیراعظم نے کسی عالمی اپیل کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

انہوں نے بتایا کہ ستمبر میں 500 ملین ڈالر کا یورو بانڈ ادا کیا گیا اور اب توجہ معاشی استحکام سے ترقی کی جانب منتقل کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت اصلاحات جاری ہیں جبکہ بڑے پیمانے کی صنعت میں 10 فیصد گروتھ ریکارڈ کی گئی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی شرح نمو ڈیڑھ سے پونے دو فیصد تک جانے کی توقع ہے اور برآمدات میں کمی نہیں آنے دی گئی۔ بزنس کمیونٹی کی تجاویز کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے گا، چاہے اس میں ایک سال لگے یا زیادہ وقت درکار ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ گزشتہ دو سال سے تنخواہ نہیں لے رہے اور سپر ٹیکس بھی ادا کر چکے ہیں، جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے تحت عائد ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ 24 کروڑ افراد کو حکومت سرکاری نوکریاں فراہم نہیں کر سکتی، اس لیے نجی شعبے کا کردار انتہائی اہم ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے، تعمیراتی شعبے میں سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈویلپرز اور بینکرز کو ریکوری کے مسائل کا سامنا ہے، جس پر وزیراعظم آئندہ چند دنوں میں خود بات کریں گے۔ ان کے مطابق سیمنٹ کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے، کنسٹرکشن سیکٹر میں ٹیکس اصلاحات جاری ہیں جبکہ آئی ٹی برآمدات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم ہنڈی کے ذریعے رقوم کے اخراج کو روکنا ایک چیلنج ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں